برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی سکس کے سابق سربراہ الیکس ینگ نے کہا ہے کہ حالیہ تنازعات میں ایران اپنے اثر و رسوخ کے لحاظ سے غالب نظر آ رہا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کی پوزیشن محدود رہی ہے۔
ینگ نے بتایا کہ گزشتہ برس جون میں ایران نے اپنی فوجی تیاریوں اور ہتھیاروں کی ملک بھر میں تعیناتی کے ذریعے موجودہ کشیدگی میں مضبوط موقف حاصل کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے اپنے فوجی کمانڈ سسٹم کو مکمل فعال کیا، جس سے زمینی اور سمندری حکمت عملی میں فائدہ ہوا۔
سابق سربراہ نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کی اقتصادی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی فوجی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی، جس سے خطے میں اس کا اثرورسوخ بڑھا ہے۔
ینگ کے مطابق، سابق امریکی صدر کی طرف سے پہلے کی جانے والی فوجی کارروائیوں کے نتائج محدود رہے اور ان کے حاصل کردہ فوائد کافی حد تک ضائع ہوئے، جس سے ایران کو اپنے اقدامات مزید مستحکم کرنے کا موقع ملا۔

