لبنان کی سرحد کے قریب واقع مارگالیوت کے میئر نے کھل کر بتایا کہ حزب اللہ کے حملوں کے باعث اسرائیل میں شدید تباہی ہوئی ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں وہ آنسوؤں کے ساتھ بولے کہ شہر میں ہر چیز تباہ ہو گئی، اور عالمی برادری کی جانب سے کوئی مؤثر مدد نہیں ملی۔
میئر نے مغربی ممالک سے اپیل کی کہ وہ صورتحال کو تسلیم کریں اور اسرائیل کے شہریوں کی حفاظت میں مدد فراہم کریں، کیونکہ موجودہ بحران میں کوئی بھی ملک اسرائیل کے ساتھ کھڑا نہیں ہے۔
اسی دوران اسرائیل کے کیریت شمونہ کے میئر ایویچائی اسٹرن نے بھی غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ نے اسرائیل کی حکومتی پالیسیوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران اور حزب اللہ کے حملوں کے نتیجے میں شہر میں بہت زیادہ نقصان ہوا، ہزاروں شہری زندگی کی بازی ہار گئے، اور باقی رہنے والے لوگ مسلسل خوف و ہراس میں ہیں۔
میئر اسٹرن نے کہا کہ ایک شہر تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا، 16 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور اگر 10 ہزار باقی شہری 10 دن بھی یہاں رہیں تو زیادہ تر بمباری میں جا سکتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیا جیت ہے کہ شہریوں کو حفاظت فراہم نہیں کی جا سکتی، ہر لمحے خطرہ رہتا ہے، اور لوگ شیلٹر میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
میئر نے اپنی ذاتی مشکلات بھی بیان کیں، کہا کہ ان کی دو چھوٹی بچیاں ہیں اور انہیں محفوظ رکھنے کے لیے مناسب انتظامات نہیں ہیں۔ شہریوں کو مناسب تحفظ فراہم نہ ہونے کی وجہ سے معمر، معذور اور بیمار افراد شدید خطرے میں ہیں۔ ایک بس ڈرائیور بھی حملے کے دوران ہلاک ہوا، جبکہ مسافر اور شہری کم وقت میں پناہ لینے پر مجبور تھے۔

