اسرائیلی فضائی حملہ، ایران کے سب سے بڑے گیس فیلڈ میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی

ایران میں گیس فیلڈ پر حملہ

اسرائیلی فضائی حملہ، ایران کے سب سے بڑے گیس فیلڈ میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں اسرائیل اور ایران کے درمیان حالات خطرناک رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے ایران میں واقع دنیا کے سب سے بڑے گیس ذخیرے، ساؤتھ پارس گیس فیلڈ، کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں وہاں شدید آگ بھڑک اٹھی اور پورا علاقہ دھوئیں اور شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا۔

عالمی خبر رساں اداروں اور ایرانی ذرائع کے مطابق یہ حملہ ایران کے جنوبی ساحلی علاقے عسلویہ کے قریب کیا گیا، جہاں خلیج فارس میں پھیلا ہوا یہ گیس فیلڈ عالمی توانائی کے نظام میں نہایت اہم مقام رکھتا ہے۔ یہ صرف ایران ہی نہیں بلکہ قطر کے ساتھ بھی مشترکہ طور پر استعمال ہونے والا ایک وسیع ذخیرہ ہے، جسے دنیا کا سب سے بڑا قدرتی گیس کا میدان تصور کیا جاتا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، جو کہ پاسداران انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے، یہ حملہ بدھ کے روز کیا گیا۔ جیسے ہی دھماکے اور آگ کی اطلاعات سامنے آئیں، ریسکیو ٹیمیں اور فائر بریگیڈ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ کافی شدت اختیار کر چکی تھی، جس کی وجہ سے نقصان کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔

ساؤتھ پارس گیس فیلڈ ایران کی معیشت اور توانائی کے شعبے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اندازوں کے مطابق ایران کی گھریلو گیس کی ضروریات کا تقریباً 70 فیصد اسی فیلڈ سے پورا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقام کو نشانہ بنانا نہ صرف ایک فوجی کارروائی سمجھا جا رہا ہے بلکہ اسے ایران کی معاشی صلاحیت کو متاثر کرنے کی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ اس اہم گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران بھی اسرائیل نے یہاں موجود ایرانی تنصیبات کو ہدف بنایا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ علاقہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد ایران کی توانائی سپلائی کو کمزور کرنا اور اس کی علاقائی سرگرمیوں پر دباؤ ڈالنا ہے۔ تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے اس حملے کی باضابطہ تصدیق یا تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس نوعیت کے حملے جاری رہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر گیس اور تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔ چونکہ یہ فیلڈ عالمی توانائی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی خرابی یا تباہی عالمی مارکیٹ کو متاثر کر سکتی ہے۔

مجموعی طور پر یہ واقعہ نہ صرف خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس بات کا اشارہ بھی دیتا ہے کہ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر جمی ہوئی ہیں کہ آیا یہ کشیدگی کسی بڑے تنازع کی شکل اختیار کرتی ہے یا سفارتی کوششوں کے ذریعے اسے قابو میں لایا جا سکے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *